|
|
|
|
سلیما ن تاثیر ۔ پیپلز پارٹی کا قتل کب تک جاری رہے گا |
![]() |
| چنگاری ڈاٹ کام،تحریر: معظم کاظمی04.12.2011
پیپلز پارٹی کے گورنر پنجاب سلیمان تاثیر کو آج اسلام آباد میں انہیں کے ایک سیکورٹی گارڈ محمد ممتاز قادری نے جو پنجاب حکومت کا تعین کردہ تھا نے سینے ، پیٹ اور سر میں تقریبا ستائیس گولیاں مار کر بظاہر ہلاک کیا ۔ اس قتل کا یہ جواز کے سلیمان تاثیر نے ناموس رسالت قانون کو کالا قانون کہا تھا ۔ اور اس قتل کو ایک شخص کا قتل کہنا اصل حقائق کو چھپانا ہو گا ۔ یہ بے رحمانہ قتل صرف قابل افسوس اور قابل مذمت ہی نہیں بلکہ قابل مذاحمت ہے۔ کیونکہ پیپلز پارٹی کے لیے ریاستی افسر شاہی اور رجعتی طاقتیں ایک چیلنج بن چکیں ہیں وہ دن دھاڑے سرعام قتل پر قتل کر رہی ہیں انکو ورکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں ۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت اتنی خسی ، مفاد پرست اور بد اعنوان ہوچکی ہے کہ اپنے ورکروں اور لوگوں کو تحفظ دینے اور انکے خلاف صف بند عوام دشمن قوتوں سے لڑنے اور انہیں ختم کرنے کی بجائے ہر قتل پر کجھور کی گیٹکیں پڑھنے اور درودو سلام کی محفلوں پر ہی اتفا کر تے ہیں اور پیپلز پارٹی کے ورکرروں کو بھی یہی تلقین و ہدایت کی جاتی ہے جو نہایت بزدلانہ عمل اور کمزوری کا مظاہر ہے جس سے پیپلز پارٹی کے ورکروں میں مایوسی اور غم وغصہ پایا جاتا ہے بلکہ عمومی عوام میں بھی پیپلز پارٹی قیادت سے نا امید ی اور ناراضگی پھیل چکی ہے ۔ عمل کے خلاف در عمل نہ کرنے سے عوام دشمن طاقتوں کے حوصلہ بڑھ رہے ہیں اور وہ اب سر چڑ کر بول رہے ہیں اور جھولی میں بیٹھ کر ڈارھی کھنچ رہے ہیں ۔ اس قتل کے پیچھے کسی ایک شخص کا ہاتھ نہیں بلکہ وہی تسلسل ہے جو اصل میں ذوالفقار علی بھٹو کے قتل سے شروع ہوا تھا جنہوں نے شاہ نواز ، ممتاز اور بے نظیر بھٹو کو بڑی بے دردی سے کھلے عام قتل کر دیا اور ان کے خلاف آج تک کچھ نہیں کیا گیا اور اب بھی کچھ نہیں کیا جائے گا ماسوائے سیاست چمکانے اور تفشیشی ہیرا پھیر ی کے ۔ عوام قاتل ، یہ وہی رجعتی اور ریاستی طاقتیں ہیں جنہوں نے محنت کش عوام کے خلاف ضیا آمریت کی سیاہ رات میں جنم لیا اور پروان چڑھے ۔ جو کسی صورت میں بھی جمہوریت اور عوام کے حق میں نہیں ہیں ۔ یہ ظلم وجبر کے دور میں عوامی خون سے جوان ہوئی رجعت اور قدامت پرستی جس کے منہ کو عوام اور عوامی لیڈروں کا خون لگ چکا ہے ۔ یہ اس قتل کے بعد بھی مسلسل پیاسے رہیں گئے۔ یہ استحصالی اور بھیانک خونی قوتیں موجودہ سرمایہ داری نظام کی پیداوار ہیں جس کے زوال نے سماجی سیاسی اور معاشی استحکام کے پرخچے اڑا کر رکھ دیئے ہیں ۔ جس سماج میں مالی استحکام نہیں ہوتا وہاں کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ سماجی انتشار اور خلفشار پاکستان کی رگوں میں کینسر کی طرح سرائیت کر چکا ہے جسکا علاج صرف اور صرف ایک انقلابی جراحی ہی ہے ۔ پرسوں ایم کیو ایم کی مرکزی اور سندھ حکومت سے علیحدگی سے ہی معلوم ہو گیا تھا کہ دال میں کچھ کالا ہے کیونکہ ایم کیو ایم ایک فاشسٹ تنظیم ہے جس کو مکمل طور پر فوج اور ریاستی ادرے کنٹرول کرتے ہیں اگر ایم کیو ایم حکومت سے الگ ہو رہی ہے تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں ۔ اور پاکستانی ریاست کوئی نئی کچھڑی پکا رہی ہے ۔ یا پھر فوجی حکمران اقتدار میں آنے کے لیے پر تول رہے ہیں ایم کیو ایم کے روحانی پیر الطاف حسین نے چند ہفتے قبل اس کابرملا اظہار بھی کر دیا تھا کہ ہم(دیانتدار جرنیل ، جو ایک نہایت دو نمبر لفظ ہے فوجی جرنیل اور دیانتدار دو متضاد چیزیں ہیں)فوجی حکومت کی حمائت کریں گئے ۔ مسلم لیگ ق جو مشرف آمریت کی لونڈی ہے اور مسلم لیگ ن جوضیا آمریت کا عوام پر عذاب مسلسل ہے جب سے سیلمان تاثیر گورنر پنجاب بنا تب سے پنجاب حکومت اور گورنر دست وگریباں رہیں ہیں اور پنجاب حکومت کا وزیر قانون اپنی بے توکی موچھوں کے نیچے سے اکثر گورنر کے خلاف بے سرا بڑبڑاتا رہتا تھا اس قتل کے پیچھے ایم کیو ایم کی طرح پنجاب حکومت اورضیائی مسلم لیگ کو بھی خارج عمل قرار نہیں دیا جس سکتا ۔ اور اب تو پی پی پی جو آمریت کے خلاف ایک جرات مند علامت تھی اس پر بھی آمریت کی باقیات نے قبضہ جما لیا ہے ۔ ان حالات میں کسی ایک پارٹی میں تفریق کر نا آسان نہیں رہا ۔ لیکن پیپلز پارٹی کی حمائت کرنے والی عوام اور اس کے ورکروں میں فرق ضرور کیا جا سکتا ہے جو محنت کس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ہم انہی غریب پی پی کے ورکروں کے لیے پیپلز پارٹی میں ہیں اور انکی سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کے ساتھی ہیں ۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آج وقت ہے پیپلز پارٹی اپنے لیڈروں اور ورکروں کے خون کا حساب لے ۔ پاکستان میں چوبیس گھنٹے کی مکمل ہڑتال کا اعلان کرئے ۔ بے نظیر بھٹو ا ورپارٹی کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے عوام کو منظم کر کے طبقاتی تحریک چلائی جائے ۔ پیپلز پارٹی کے بنیاد ی منشور کو بحال کیاجائے جس میں ، روٹی کپڑا ، مکان ہر انسان کو فوری طور پر مہیا کیا جاے کیونکہ یہ عوام کا حق ہے رعائت نہیں۔ اسی منشور میں پیپلز پارٹی کا مقصد ایک غیر طبقاتی معاشرہ کا قیام ہے شاسرخیوں میں لکھا ہے ۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے تمام بڑی بڑی صنعتوں اور تمام بینکوں کو قومی تحویل میں لیا جائے ۔ مزدوروں کی کم ازکم تنخواہ ایک تولہ سونے کے برابر کی جائے اور اس معیار کو قائم رکھا جائے ۔ کام کے اوقات کار پنتیس گھنٹے مقرر کی جائے اور ہفتے میں دو چھٹیاں ہوں تاکہ پاکستانی عوام کو زندہ ہونے کا احساس ہوسکے ۔ روزگار دو یا پندرہ ہزار بے روزگاری الاونس دیا جائے ۔ تعلیم ہر ایک کے لیے تمام سطحوں تک مفت اور عام ہو ۔ تمام عوام کو اپنے مذہنی عقائد کی مکمل آزادی ہولیکن تمام مذہبی جماعتوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے جو ملک میں فرقہ واریت اور خون ریزی کی بڑی وجہ ہیں تمام ملاوں کو بھی پاکستان کی ترقی کے لیے کام پر لگایا جائے جو اب تک سب سے بڑے مفت خورے ہیں اور پاکستان پر بوجھ بنے ہیں ۔ اور اس پروگرام پر پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ اپنے اور عوام دشمن قوتوں کے خلاف تحریک کا فوری آغاز کرئے تاکہ دشمنوں کو بھی معلوم ہوکے وہ خود سر اور بے گام نہیں اور پیپلز پارٹی ابھی مری نہیں ۔ اس پروگرام کے بغیر پاکستان میں ہر جدوجہد ادھوری نا مکمل ، بے سود ، بیکار ، اور جعلی ہے ۔ اگر کسی کو لڑنا ہے تو اس پروگرام پر اور ہم اس کے ساتھ ہیں عوام بھی اس کا ساتھ دیں گئے۔ وگرنہ پاکستان میں بربریت اور وحشت کا خونی بازار گرم لگ چکا ہے اب دیکھنا ہے اگلی کس کی باری ہے؟ اب نجات کا صرف ایک ہی راستہ ہے جو سوشلزم کی طرف جاتا ہے بقیہ تمام راستے تباہی اور بربادی اور ذلت کے راستے ہیں ۔ |