|
|







خطروں سے کھیلتے
پاکستانی صحافی ان کی زندگیاں کتنی سستی ہیں
منگل کو جب لال مسجد کے اندر اور باہر
مختلف محاذوں سے گولیاں برس رہی تھیں اور آنسو گیس کے شیل، پتھر، لاٹھی اور
پیٹرول بم بھی برسائے جارہے تھے اس دوران وہاں ایسے نہتے لوگوں کی ایک بڑی
تعداد بھی موجود تھی جو چاہتے ہوئے بھی محفوظ مقامات کی جانب نہیں جاسکتے تھے
یہ ذرائع ابلاغ کے وہ نمائندے اور کارکن
تھے جو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں مصروف تھے۔
محمد جاوید ذرائع ابلاغ کے ان بیسیوں
نمائندوں اور کارکنوں میں سے ایک تھے جو ہاتھوں میں قلم، کاپی، موبائیل فون
اور کیمرے تھامے لال مسجد کے باہر برپا تشدد، شیلنگ اور گھیراؤ کی کوریج میں
مصروف تھے۔وہ اسلام آباد سے شائع ہونے والے ایک اخبار روزنامہ مرکز میں
رپورٹر ہونے کے ساتھ ساتھ برطانیہ کے ایک نجی ٹی وی چینل کے کیمرہ مین بھی
تھے۔
جاوید بنیادی طور پر آٹو مکینک
تھے لیکن کئی سال قبل انہوں نے صحافت کا پیشہ اختیار کرلیا تھا جس سے گھر
والے کچھ زیادہ خوش بھی نہیں تھے۔
جاوید کے تین چھوٹے بچے ہیں جن میں سب
سے بڑی بیٹی 6 سال کی آمنہ اور سب سے چھوٹا بچہ ایک سال کی مصباح ہے۔
لال مسجد کے باہر رپورٹنگ کرتے ہوئے
گولی، پتھر اور شیل لگنے سے کم سے کم پانچ صحافی زخمی ہوئے جن میں ایک
غیرملکی نجی ٹی وی چینل کا کیمرہ مین اسرار احمد شدید زخمی ہوا اور ریڑھ کی
ہڈی اور بازو میں دو گولیاں لگنے کی وجہ سے ایک مقامی ہسپتال میں زیرعلاج ہے۔
جاوید کی موت کے عینی شاہد اور بی بی سی
کے نامہ نگار ہارون رشید ان صحافیوں میں ایک قدر مشترک کی نشاندہی کرتے ہیں جو
ان کے بقول صحافیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتی ہے۔
وہ کہتے ہیں ’مسئلہ یہ ہے کہ کیمرہ ہاتھ
میں تھماکر انہیں فیلڈ میں بھیج دیا جاتا ہے ان کو ایسے حالات میں کس طرح خود
کو بچانا ہے کس طرح تصویریں لینی ہیں اور کس طرح اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں
انجام دینی ہیں اس بارے میں انہیں کبھی کوئی تربیت نہیں دی گئی خاص طور پر
پاکستان میں ان کے لئے ایسی کوئی تربیت نہیں ہوتی‘۔
ملک میں نجی ٹی وی چینلز کی آمد کے بعد
جہاں ذرائع ابلاغ کے درمیان مسابقت بڑھی ہے وہاں صحافیوں، کیمرہ مینوں اور
پریس فوٹو گرافروں پر بھی دباؤ بڑھا ہے لیکن پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس
کے سیکریٹری جنرل مظہر عباس کہتے ہیں کہ میڈیا کی ترقی کے باوجود پرخطر حالات
میں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کی حفاظت کا بندوبست نہیں کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ پروفیشنل باڈیز اور
میڈیا کے اداروں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے صحافیوں اور کارکنوں کو
سیفٹی کور فراہم کریں جس میں لائف سیونگ جیکٹس اور لائف انشورنس لیکن یہ
ہمارے یہاں بالکل نہیں ہوتا اور میں سمجھتا ہوں کہ ایسے حالات میں جو بھی
صحافی غیرمحفوظ حالت میں کام کرتے ہوئے زخمی یا موت کا شکار ہوتے ہیں اس کی
ذمہ داری ان کے اداروں اور خاص کر مالکان پر عائد ہوتی ہے‘
۔لال مسجد کے باہر تشدد کی رپورٹنگ میں
میڈیا کے نمائندوں اور کارکنوں کو پہنچنے والے جانی نقصان کے بعد ذرائع ابلاغ
پر یہ ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کی حفاظت کے لئے ضروری تربیت
اور سہولتوں کا انتظام کریں


  


|
|