انڈیا ۔ جمہوریت کا بازار ِ مصر
      انڈیا ۔ جمہوریت کا بازار ِ مصر
لال خان،18.05.2009۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ابھی ہندوستان کے ایک ماہ دورانیے کے انتخابات کی ووٹنگ کی گنتی بھی شروع نہیں ہوئی کہ سیاسی پارٹیوں اور بڑے بڑے سرمایہ دار گروپوں کے درمیان ہارس ٹریڈنگ اور سٹہ بازی کا بازار اس کاروبار کی حدت سے تپ چکا ہے۔پچھلے کچھ عرصے سے ہندوستان میں کرکٹ پر سٹہ بازی کی جو انتہا کر دی گئی ہے وہ انڈین پریمیئر لیگ آئی پی ایل میں کھل کر سامنے آئی ہے۔اس میں بڑے بڑے جواری اور سرمائے کے جگا دری فلمی ستاروں کو خرید کر ان کو مختلف ٹیموں کے مالک بناتے ہیں اور پھر یہ ستارے کرکٹ کے دنیا بھر کے کھلاڑیوں کی لگائی گئی منڈی میں ہونے والی نیلامی میںمختلف کھلاڑیوں پر داﺅ لگا کر ان کو خریدتے ہیں۔اس سے ٹیمیں بنتی ہیں اور وہ ٹورنامنٹ ہوتا ہے جس میں کھیل نہیں جو ااور بلادکار ہوتا ہے ۔لیکن دنیا کی اس سب سے بڑی جمہوریت میں سب سے بڑے اور طویل الیکشن کے بعد جو یہاں سیاست کا کاروبار ہوتا ہے اس کے سامنے تو آئی پی ایل کی جوابازی بچوں کا کھیل لگتا ہے۔کرکٹ کی ٹیموں کی طرح اس سیاسی ٹورنامنٹ میں کہیں زیادہ بھاری رقوم کا جوا کھیلا جاتا ہے۔ٹیموں اور فلمی ستاروں کی جگہ یہاں سیاسی لیڈر اور سیاسی پارٹیاں اس ہندوستان کے بازار مصر میں نیلامی پر چڑھتے ہیں۔ہندوستان کے بڑے بڑے مالیاتی گھرانے جن میں ٹاٹا،برلا،امبانی،مہندر،اوبرائے‘ مالویا اور کئی دوسرے شامل ہیں بہت بھاری بھاری رقوم کا سٹہ لگاتے ہیں۔پھر یہ سیاست دان بکتے ہیں۔اسی کھیل میں بہت سے سیاسی اتحاد اور مخلوط حکومتیں بنائی اور گرائی جاتی ہیں۔مختلف ناطے جوڑے اور توڑے جاتے ہیںاور اس کے نتیجے میں بننے والی ہر حکومت،پارٹی اور سیاست دان عملی طور پربراہِ راست اسی مالک کا کھیل کھیلتے ہیںجس نے ان کو خریدا ہوا ہوتا ہے۔پھر یہ مالکان ٹھیکوں اور پرمٹوں سے لے کر کارپوریٹ ورلڈ کا ہر جرم اس بے دریغ وحشت سے کرتے ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتے ہیں۔یہ کوئی حادثہ نہیں ہے کہ ہندوستان کے میگزین”آﺅٹ لک“ کے مطابق اس وقت صرف سوئٹزر لینڈ کے بینکوں میں بھارتی سرمایہ داروں کے چودہ سو ہزار ارب ڈالر کالے دھن کی صورت میں پڑے ہوئے ہیں۔لیکن کوئی حکومت ان کی تفتیش اس لیے نہیں کر سکتی کیونکہ ہر حکومت کے اقتدار میں آنے سے پیشتر ہی اس کے سرکردہ سیاست دان بک چکے ہوتے ہیں۔ہاں،کمیٹیاں ضرور بنائی جاتی ہیں جن کی رپورٹ یا فیصلے کئی انتخابات گزر جانے کے بعد تک منظرِ عام پر نہیں آتے حالیہ انتخابات میں ہندوستان کی تمام بڑی پارٹیوں کے چووالیس فیصد امیدوار قتل ،زنا بالجبر،گینگ ریپ اور دوسرے جرائم کے ملزم ہیں ۔لیکن ہندوستان کے پارلیمانی نظام کی طرح یہاں کا عدالتی نظام بھی دنیا کا سست ترین نظام ہے ۔عمومی طور پر ایسے افراد کے کیس چلتے رہتے ہیں ،وارنٹ جاری ہوتے رہتے ہیں ،گرفتاری سے پہلے ضمانتیں ہوتی رہتی ہیں اور مقدمے عدالتیں بدلتے رہتے ہیں،ان کا اوسط دورانیہ اکانومسٹ کے مطابق پچیس سے تیس سال کا ہے ۔ایسے میں کون جانے ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ہندوستان کی سیاست میں لکشمی کی ہوس اور لالچ ہمیشہ سے رہی ہے ۔ انیس سو اکاسی میں جب اندرا گاندھی کا لاڈلا اور اوباش بیٹا سنجے گاندھی اپنے جہاز کو خطرناک طریقے سے اڑاتے ہوئے کریش میں دہلی کے نواح میں مارا گیا اور جونہی اندرا گاندھی کو اطلاع ملی تو وہ فوراً ہیلی کاپٹر کے ذریعے جائے حادثہ پر پہنچی ۔اپنے لاڈلے بیٹے کی لاش کو گلے لگا کر رونے سے پہلے اس نے فوری طور پر اس کے ہاتھ پر بندھی ہوئی گھڑی اتاری اور اس کو اپنے ہینڈ بیگ میں فوراً محفوظ کر لیا ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس گھڑی کے پیچھے سوئس بینک کا وہ اکاﺅنٹ نمبر کریدا ہوا تھا جس میں اس عظیم خاندان کی لوٹ مار کی کالی دولت جمع تھی۔حالیہ طویل اور دیو ہیکل انتخابی مہم میں کوئی اہم بنیادی ایشو کسی پارٹی نے بھی نہیں اٹھایا ۔ہندوستان میں اس وقت جاپان سے زیادہ ارب پتی ہیں اور نیوز ویک کے حالیہ شمارے کے مطابق ہندوستان کی ایک اعشاریہ ایک ارب آبادی میں سے تراسی کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد ایسے افراد ہیں جن کی یومیہ آمدن پنتالیس سینٹ( بیس روپے)ہے۔ حالیہ عالمی مالیاتی بحران کی وجہ سے پچھلے چند ماہ میں صرف انفوٹیک اورچند دوسرے سیکٹروں میں پندرہ لاکھ افراد روزگار کھو بیٹھے ہیں۔ہندوستان کے امیرترین لوگ دنیا میں سب سے کم انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ اور ہمیشہ سب سے زیادہ سرکاری مراعات حاصل کرتے رہے ہیں۔ کسی پارٹی کے منشور میں غربت،علاج کے فقدان، تعلیم، نکاسی اور بھوک کے بارے میں کوئی واضح پروگرام نہیں دیا گیا ۔ پچھلے پانچ سال میںایک سو پچاس کسان خود کشیاں کر چکے ہیں۔ چالیس بچے روزانہ بھوکے سوتے ہیں ۔دنیا کی بائیس فیصد آبادی کے اس ملک میں دنیا بھر کی پنتالیس% غربت پلتی ہے ۔ اس پسِ منظر میں حالیہ انتخابات جتنے بے مقصد اور فروعی نوعیت کے تھے ان کا نتیجہ اتنا ہی پیچیدہ اور غیر فیصلہ کن نکلے گا ۔ کوئی پارٹی بھی بھاری اکثریت لے کر حکومت نہیں بنا سکے گی ۔ اسی لیے ہندوستان کے سرمایہ داروں نے یہ کھیل ہی ایسے بنایا ہے کہ ان کو سودے بازی میں آسانی ہو۔ کانگریس،بی جے پی اور سی پی آئی(مارکسسٹ) کے معاشی پروگرام بنیادی نکات پر تقریباً ایک جیسے ہیں ۔ لوگوں کو جب انتخابات میں کسی بھی پارٹی کے منشور میں کوئی نجات نہیں ملتی تو اپنا ووٹ بیچنے کے علاوہ ان کے پاس چارہ ہی کیا رہ جاتا ہے ۔ لیکن یہ کھلواڑ اس طرح چل نہیں سکے گا۔ ہندوستان میں تیزی سے بڑھتا ہو امعاشی بحران پہلے ہی بڑے سماجی خلفشار کو ابھار رہا ہے ۔ صورتحال دن بدن گھمبیر ہوتی جا رہی ہے ۔ مذہبی،قومی،لسانی ،گروہی‘ فرقہ وارانہ،ذات پات اور نسلی تعصبات اس معاشرے کو چیر پھاڑ رہے ہیں۔ سرکشیاں جاری ہیں غربت اور بیماری سے ہزاروں مررہے ہیں ،لیکن ان حکمرانوں کی بے حسی اور بے نیازی اپنے عروج پر ہے ۔ ہندوستانی سرمایہ داری جس تباہی اور بربادی کی جانب اس سماج کو لے کر جا رہی ہے اس سے ہزاروں سال کی اس قدیم تہذیب اور تمدن کے وجود کو بربریت کا خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔ ہندوستان کے محنت کشوں نے باسٹھ سال سے اس جمہوریت اور انتخابات کو بڑی ہی اذیت میں برداشت کیا ہے۔ان کو سوائے ذلت اور رسوائی کے کیچھ نہیں ملا ۔ ان کی روایتی پارٹیوں اور کمیونسٹ لیڈروں نے ان کو دھوکے اور فریب دیئے ،جمہوریت اور سیکولر ازم کے نام پر عوام کو بھوک،ننگ اور افلاس ملا۔ جب تمام راستے بند کر دیئے جاتے ہیں تو پھر انقلاب کا راستہ کھولنا پڑتا ہے ۔ ہندوستان کے محنت کشوں کے پاس بھی اب کوئی اور راستہ نہیں بچا ۔ لینن نے کہا تھا کہ جب ہاتھ سے ووٹ ڈالنے سے مسائل حل نہ ہوں تو پھر عوام پاﺅں سے ووٹ ڈالتے ہیں ۔ ہندوستان کے محنت کش اب شاید یہ طریقہ استعمال کرنے والے ہیں ۔اور یہی تحریک ان کو اس سیاسی،سماجی اور معاشی نظام کو ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے اکھاڑ کر صدیوں کی غلامی ،استحصال اور ذلت سے نجات کی راہوںپر گامزن کرے گی۔