Subscribe to RSS headline updates from:
Powered by FeedBurner

گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان کے مختلف شہروں میں تشدد کے متعدد واقعات پیش آئے جن میں فوجی کارروائیاں، فرقہ وارانہ فسادات اور خودکش حملوں میں کئی افراد ہلاک ہوگئے۔ اسی طرح کے کچھ بڑے واقعات کی فہرست حسب ذیل ہے:

دس جولائی دو ہزار سات:
اسلام آباد میں واقع لال مسجد میں چھپے ہوئے شدت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کے آپریشن میں مسجد کے نائب مہتم عبدالرشید غازی سمیت بیسیوں افراد ہلاک ہوگئے۔

پندرہ مئی دو ہزار سات:
پشاور میں ناز سنیما روڈ پر ایک افغان ریسٹورنٹ میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں پچیس افراد ہلاک اور تیس افراد زخمی ہوگئے۔

بارہ مئی دو ہزار سات:
’معطل‘ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کے کراچی دورے کے موقع پر سیاسی کارکنوں کے درمیان ہونے والی فائرنگ کے واقعات میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔

اٹھائیس اپریل دو ہزار سات:
صوبہ سرحد کے شہر چارسدہ میں وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ پر ہونے والے حملے میں شیرپاؤ تو بچ گئے لیکن اٹھائیس افراد ہلاک ہوگئے۔

سترہ فروری دو ہزار سات:
کوئٹہ میں ایک عدالت کے اندر ہونے والے ایک خودکش حملے میں ایک جج سمیت پندرہ افراد ہلاک اور تیس سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔

ستائیس جنوری دو ہزار سات:
پشاور کے قصہ خانی بازار میں بظاہر پولیس والوں پر کیے جانے والے ایک خودکش حملے میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے جن میں بیشتر پولیس افسر تھے۔

آٹھ نومبر دو ہزار چھ:
صوبہ سرحد میں درگئی کے مقام پر فوجی تربیتی گراؤنڈ میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں کم سے کم پینتیس فوجی مارے گئے تھے۔

تیس اکتوبر دو ہزار چھ
صوبہ سرحد کے قصبے باجوڑ میں ایک مدرسے میں موجود مشتبہ افراد پر فضائی طیاروں سے ہونے والی بمباری میں 80 افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے نائب امیر مولانا لیاقت بھی شامل تھے۔

گیارہ اپریل دو ہزار چھ:
کراچی کے نشتر پارک میں میلادالنبی کے ایک جلسے پر ہونے والے خودکش حملے میں ستاون افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

مارچ دو ہزار چھ:
شمالی وزیرستان میں غیرملکیوں کے خلاف فوج اور حکومت کے حامی قبائل کی کارروائیوں میں ایک اندازے کے مطابق 200 افراد مارے گئے۔

تیس مئی دو ہزار پانچ:
کراچی کے گلشن اقبال علاقے میں ایک شیعہ مسجد پر ہونے والے حملے اور اس کے بعد شروع ہونے والے ہنگاموں میں لگ بھگ ایک درجن افراد ہلاک ہوگئے۔

ستائیس مئی دو ہزار پانچ:
اسلام آباد میں امام بری کے مزار پر خودکش حملے میں میں اٹھارہ افراد ہلاک اسی سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔

انتیس مارچ دو ہزار پانچ:
بلوچستان کے شہر گندھاوا کے قریب ایک دیہات فتح پور میں عرس کی تقریبات کے دوران ہونے والے دھماکے میں چوبیس افراد ہلاک اور ستر سے زائد زخمی ہوگئے۔

ٹھائیس اکتوبر دو ہزار چار:
اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل میں ہونے والے ایک دھماکے میں دو غیرملکیوں سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے۔

سات اکتوبر دو ہزار چار:
ملتان میں سنی رہنما مولانا اعظم طارق کی یاد میں منقعدہ ایک جلسہ سے واپس جانے والے افراد پر ایک کار بم سے حملہ کیا گیا جس میں چالیس افراد ہلاک ہوگئے۔

ایک اکتوبر دو ہزار چار:
سیالکوٹ میں جمعہ کے روز ایک امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے میں پچیس افراد ہلاک ہوئے۔

اکتیس مئی دو ہزار چار:
کراچی میں محمد علی جناح روڈ پر واقع ایک شیعہ مسجد پر ہونے والے حملے میں بیس افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے۔

دو مارچ دو ہزار چار:
کوئٹہ میں یوم عاشورہ کے ماتمی جلوس پر نامعلوم افراد کی فائرنگ میں بیالیس افراد ہلاک اور ایک سو زخمی ہوگئے۔

مارچ-جون دو ہزار چار:
جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں اور پاکستان فوج کے درمیان لڑائیوں میں لگ بھگ دو سو افراد مارے گئے۔

پچیس دسمبر دو ہزار تین:
جنرل پرویز مشرف کے قافلے پر ہونے والے ایک خودکش حملے میں چودہ افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے لیکن جنرل مشرف بچ گئے۔ چودہ دسمبر کو بھی اسی طرح کے ایک حملے میں جنرل مشرف بچ گئے۔

چار جولائی دو ہزار تین:
کوئٹہ میں ایک شیعہ مسجد پر ہونے والے خودکش حملے میں لگ بھگ سینتالیس افراد ہلاک ہوگئے۔

چودہ جون دو ہزار دو:
کراچی میں امریکی قونصلیٹ کے باہر ہونے والے کار بم حملے میں بارہ پاکستانی شہری مارے گئے۔

آٹھ مئی دو ہزار دو:
کراچی میں ہونے والے ایک کار بم دھماکے میں گیارہ فرانسیسی انجینیئروں سمیت چودہ افراد ہلاک ہوگئے۔

طوفانی بارشیوں کے باعث کل سے آج تک 115

 لاشیں، کراچی اشکبار

ااس طوفان میں زخمی ہونے والے دو سو سے زائد افراد کو، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں جناح، سول ، عباسی شہید اور سعود آباد ہسپتالوں میں داخل کروایا گیا ہے۔ زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے جبکہ تاحال ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافد ہے۔

طوفانِ باد و باراں کے بعد سڑکوں پر ابھی تک زندگی بحال نہیں ہوئی ہے۔ رات بھر شہری حکومت کا عملہ اہم شاہراہوں سے بارش کا پانی نکالنے میں مصروف رہا مگر شہر کے مصافاتی علاقوں سمیت کلفٹن، کنٹونمنٹ اور ڈیفنس کے کئی علاقے ابھی تک زیرِ آب ہیں۔ شہری حکومت کی جانب سے کئی مقامات پر ایمرجنسی سینٹر بھی قائم کیے گئے ہیں۔

کراچی کے کئی علاقوں میں رات بھر بجلی کی فراہمی معطل رہی۔ بارش میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے

 ٹرپ ہونے والے پینتیس گرڈ سٹیشنوں میں سے اکثر بحال کردیے گئے ہیں تاہم کچھ علاقوں میں بجلی کی فراہمی تاحال معطل ہے جس کے خلاف سنیچر کی رات اور اتوار کی صبح لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

کراچی میں سنیچر کو سارا دن سخت گرمی اور گھٹن کے بعد شام کو ساڑھے چار بجے تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ ہوا اس قدر شدید تھی کہ کئی مقامات پر درخت، بجلی اور ٹیلیفون کے کھمبے اکھڑ کر سڑکوں پر آگرے، اس کے علاوہ بڑے سائن بورڈ بھی زمین بوس ہوگئے تھے۔

محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر میں دس سے سترہ ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ محکمۂ موسمیات نے آئندہ اڑتالیس گھنٹوں میں مزید شدید بارش کی پیشین گوئی کی ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے ماہی گیروں کوگہرے سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

 

 

مذہبی جماعتوں نے ہمیشہ آمروں کا ساتھ دیا ہے

آج پھر ایم ایم اے تحریک چلانے کی بات کر رہی ہےجبکہ آج تک پاکستانی تاریخ میں انہی مذہبی اور قدامت پسند تنظیموں نے جو آج متحدہ مجلیس عمل میں شامل ہیں نے ہر ظلم اور آمریت کے لیے راہ ہموار کی ہے۔عوام ابھی نہیں بھولے کے پاکستان کے ایک

منتخب وزیراعظم بھٹو کو پھانسی کس نے دلائی اور پاکستانی تاریح کی سب سے زیادہ بھیانک اور خونی ضیا آمریت کے لانے والے کون تھے یہی نو ستاروں کا قومی اتحاد جو آج ایم ایم اے کے نئے نام سے لیکن وہی رجعتی اور آمرانہ سوچ ہے جو ملک میں ظلم اور جبر کے رواج کوقائم کرتی ہے
 آج یہ مشرف کے خلاف نظر آ رہے ہیں لیکن مشرف آمریت کو لانے اور اس کو مضبوط کرنے میں اسی ایم ایم اے کا مین کردار رہا ہے۔2002 میں انہوں نے ایل ایف او کی ممکل حمایت کر کے مشرف کو آئینی ڈنڈا تھما دیا جس کا وہ آج تک بھرپور استعمال کر رہا ہیں
 اورآج جب مشرف کی حکمرانی کمزور پڑگئی ہے(جس طرح چوہے ڈبتے جہاز کو چھوڑ دیتے ہیں) تو انہوں نے بھی حسب روایت مخالفت شروع کر دی ہے تا کہ مستقبل میں کسی نئے ظلم کی راہ ہموار کی جائے
 جماعت اسلامی ،ایم کیو ایم ، مسلم لیگ اور دوسری مذہبی اور قدامت پسند تنظیموں نے اپنے آپ کو آمریت کے ادوار میں مضبوط کیا اور پروان چڑھایا۔خاص طور پرایم کیو ایم اور جماعت اسلامی نے ضیا آمریت کی سیاہ رات میں آئی ایس آئی،غیر ملکی امداد اور ضیا کی مکمل بھرپور حمایت سے مضبوط اور مسلح کر کے عوام اور محنت کشوں کے خلاف تشدت اور ظلم وجبر میں ضیا کے رائیٹ ہینڈ کا کام کیا

یحیی خان کی آمریت کے دور میں جماعت اسلامی نے البدر اور الشمس 2 دہشت گرد تنظیمں بنائی اور بنگال میں بے گناہ عوام کا نہایت سفاکی سے قتل وغارت کیا۔اس وقت بھی اس کو یحیی خان کی مکمل سپورٹ حاصل تھی
  آج پھر یہ نئی سازشیں پاکستان اور اسکی عوام کے خلاف کرنے میں سر گرم ہیں۔
 ان کے پاس عوام کی بہتری، ملکی سیاسی،معاشی،اور سماجی مسائل کا کوئی حل اور پروگرام نہیں ہے

بلکہ یہ ضیا آمریت کے حدود آرڈنیس کی حمایت کر کے اپنی ظلمانہ سوچ کی عکاسی کر رہے ہیں
 اس میں پاکستان کے بائیں بازو کے نظریاتی دیوالیےاور عوام کو ایک انقلابی متبادل نہ دینے کا بھی خاص عمل دخل ہے
 آج پاکستان کی عوام کی مایوسی اور سیاست پر مکمل عدم اعتمادمیں پاکستان کی تمام پارٹیوں اور تنظیموں کی قیادتوں کی عوام سے بار بار دھوکہ دہی،انکی بدعنوانیوں اور جرائم کے کھلے ریکارڈ اور لوٹ مار کی سرے زبان داستانیں سرے بازار ہیں۔(حافظ سلمان بٹ اور پراچہ پر کئی قتل کے کیس ہیں)

عوام کو آج اپنے زخموں پر مرحم رکھنے والا اور انکا علاج کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔

  پاکستان کی کسی ناسور کی طرح بڑتی بے روزگاری ،نوجوانوں کا اندھیرا مستقبل اور اس سے تنگ آکر خود کشیاں، قومی تحویل میں اداروں کی اونے پونے داموں سیل اور اس میں انتہائی بداعنوانیاں،اور اس سے برطرفیاں اور بےروزگاری کی شرح میں اضافہ۔
 قصاص ودیت۔حدود۔شریعت۔کارہ کاری۔اور عورتوں کے خلاف تمام کالے قوانیں جن میں تبدیلی نہیں بلکہ مکمل خاتمہ انتہائی ضروری اور فوری ہے
 آٹھوین ترمیم سمیت تمام ضیای آمرانہ قوانیں کا خاتمہ 73 کے عوامی آئین کی مکمل بحالی اور اس میں تمام مذہبی اورتعصباتی شقوں کا خاتمہ
 مذہب اور سیا ست کی مکمل علیحدگی تا کہ مذاہب کی رسوائی اور اس کو استعمال کر کے اپنی دوکانوں کو چمکانے اور عوام پر استحصال کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے
 تعصب پسند اور فرقہ وارانہ تنظیموں اور پارٹیوں پر مکمل پابندی اور سخت سزا ہو
 قومی اداروں کی واپسی۔بڑی صنعتوں کا قومی تحویل میں لینا اور سرکاری سرمایہ کار کا فروغ۔تمام صوبوں میں مساوی ترقی۔
 ان مسائل کو حل کیے بغیر پاکستان کی ہر ترقی،خوشحالی،خودمختیاری،آزادی،امن،وفاقی سلامتی،عزت اور عظمت کا ہر خواب خواب ہی رہے گا